ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُڈپی مٹھ میں افطار پارٹی معاملہ؛ منگلورو لال باغ پرپیجاور مٹھ سوامی کے خلاف شدت پسندہندو تنظیموں کا احتجاج (وڈیو کلپ)

اُڈپی مٹھ میں افطار پارٹی معاملہ؛ منگلورو لال باغ پرپیجاور مٹھ سوامی کے خلاف شدت پسندہندو تنظیموں کا احتجاج (وڈیو کلپ)

Sun, 02 Jul 2017 14:22:43    S.O. News Service

منگلورو2؍جولائی (ایس او نیوز) اڈپی پیجاور مٹھ سوامی وشوا تیرتھ کی طرف سے کرشنا مٹھ میں مسلمانوں کو دعوت افطار اور نماز ادا کرنے کی سہولت دینے کے خلاف سری رام سینا اپنے اعلان کے مطابق منگلورو لال باغ کلاک ٹاور کے پاس احتجاج پر اتر آئی اور عام سڑک پر بھجن اورکرشنا کی پوجا کا اہتمام کیا۔

منگلورو سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج کی قیادت ہندو مہا سبھا ، ہندو جن جاگرتی سمیتی اور سری رام سینا نے مشترکہ طور پر کی، جس میں شدت پسند ہندو تنظیموں سے وابستہ رضاکارو ں نے حصہ لیا۔اس موقع پر حاضرین نے جو پلے کارڈس اٹھارکھے تھے اس میں سوامی جی سے معافی مانگنے کا مطالبہ تھا اورمورتی پوجا کے مخالف مسلمانوں کو مندر میں افطار کا موقع دینے سے ہندو دھرم کا اپمان اور مٹھ کا تقدس ختم ہونے جیسے شلوگن لکھے ہوئے تھے۔

سری رام سینا کے موہن بھٹ نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی احتجاج نہیں ہے بلکہ ہم کرشنا کی پوجا کرتے ہوئے یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔اور ہم یہ کارروائی پوری ہندو کمیونٹی کے نمائندوں کے طور پر انجام دے رہے ہیں۔ہم اس طرح فرقہ وارانہ بد امنی پیدا کرنا نہیں چاہتے ، لیکن افطار کی دعوت سے پہلے ہندو تنظیموں سے صلاح و مشور ہ کیا جانا چاہیے تھا، جو کہ نہیں ہوا۔

جبکہ اس موقع پر بولتے ہوئے ہندو جن جاگرن سمیتی کے ترجمان دھرمیندرا نے کہا کہ ہم پیجاور مٹھ سوامی کے ہندومخالف اقدام کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ پیجاور مٹھ سوامی کو ہندو عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ان پر سے ہمارا اعتماد اور احترام کم ہوجائے گا۔اگر سوامی جی معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر انہیں مٹھ کی پیشوائی کے منصب سے دستبردار ہونا چاہیے اور کسی اور کو اپنا جانشین مقرر کردینا چاہیے۔اس کا کہنا تھا کہ پیجاور مٹھ سوامی سیاسی دباؤ میں آگئے ہیں۔ ہم نے ان سے مل کر یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو افطاراور نماز کا موقع دے کر ہندوؤں کی تذلیل کی ہے، مگر وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں او ر انہوں نے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے۔اس نے مزید کہا کہ مٹھ کے کسی بھی احاطے میں مسلمانوں کے لئے عبادت کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے کیونکہ پورا علاقہ ہندو ؤں کے لئے مقدس مقام ہے۔اس طرح ناپاک کیے گئے اس مقام کو دوبارہ پاک کرنا ضروری ہے۔ اوراگر فرقہ وارانہ حقیقی معنوں میں قائم کرنی ہے تو پھر مسجدوں میں بھجن اور یوگادی جیسے تہوار منانے کا بھی موقع دیا جائے۔

دھرمیندرا نے کہا کہ ہندوؤں پر مسلسل حملے ہورہے ہیں۔ ہمیں شاستر (مذہبی کتابیں) کیا کہتے ہیں یہ بھی معلوم ہے اور شستر(ہتھیار) اٹھانا بھی آتا ہے۔ اور ضرورت پڑنے پر ہم ہتھیار اٹھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

حالانکہ احتجاج پر امن رہا مگر پولیس نے کرشنا مٹھ کے علاوہ اہم سڑکوں اور لال باغ میں احتجاج کے مقام پر سخت حفاظتی بندوبست کررکھا تھا۔ 


Share: